مجدد الف ثانی، یہ صرف ایک لقب نہیں بلکہ ایک ایسے عظیم کارنامے کا اعتراف ہے جو حضرت شیخ احمد سرہندیؒ نے ایک ہزار سال کے بعد دینِ اسلام کی تجدید کے لیے سر انجام دیا۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا زیادہ حصہ مغلوں کے سب سے طاقتور دور، شہنشاہ اکبر (1556ء تا 1605ء) اور جہانگیر (1605ء تا 1627ء) کے عہد میں گزرا، جہاں آپ نے دین کو اس کی اصلی شکل میں بحال کرنے کا فریضہ سر انجام دیا۔
حضرت مجددؒ کی پیدائش 1564ء میں ہوئی اور آپ کی زندگی کا ابتدائی اور تربیتی عرصہ شہنشاہ اکبر کے دور میں گزرا۔ یہ وہ وقت تھا جب مغل دربار میں “دینِ الٰہی” جیسے نظریات کے باعث اسلامی تعلیمات کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ اس دور میں آپ نے شریعت اور تصوف کے علوم میں گہری مہارت حاصل کی، جو آپ کی آئندہ اصلاحی تحریک کی بنیاد بنی۔ 1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کی، جس نے آپ کے صوفیانہ سفر کا رخ موڑ دیا۔ اس کے بعد آپ نے انتہائی تیزی سے روحانی منازل طے کیں اور ایک مختصر عرصے میں ہی خلافت کے مقام پر فائز ہوئے۔
جہانگیر کے تخت نشین ہونے کے بعد، حضرت مجدد نے عملی طور پر اپنی اصلاحی تحریک کا آغاز کیا۔ اس دور کے اہم ترین واقعات میں آپ کا دربار کے امراء کو اپنے شہرہ آفاق “مکتوبات” کے ذریعے دین کی طرف راغب کرنا شامل ہے۔ آپ نے جہانگیر کے دربار میں سجدۂ تعظیمی کرنے سے صاف انکار کر دیا، یہ اعلان کرتے ہوئے کہ سجدہ صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے۔ اسی انکار کی پاداش میں آپ کو دو سال تک گوالیار کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔ لیکن آپ کی روحانیت نے قید خانے کو بھی روحانی مرکز بنا دیا۔ آپ کی تبلیغ سے ہزاروں غیر مسلم فوجی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس واقعے کے بعد جہانگیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اور اس نے آپ کو رہا کر کے آپ کی تعظیم کی۔ آپ کا انتقال 1624ء میں 60 سال کی عمر میں ہوا۔
آپ کی عظمت کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ آپ نے تصوف کو شریعت کے تابع کیا۔ آپ نے وحدت الوجود کے نظریے کی تشریح کرتے ہوئے وحدت الشہود کا نظریہ پیش کیا، جس نے صوفیانہ مسائل کو اسلامی عقائد کے مطابق واضح کیا۔ آپ نے علمِ شریعت اور علمِ تصوف کو اس طرح جوڑا کہ دونوں میں ہم آہنگی پیدا ہو گئی، اور یہ سلسلہ نقشبندیہ کی پہچان بن گیا۔ آپ نے دینِ الٰہی کی شدید مخالفت کر کے اسلام کے حقیقی تشخص کو برقرار رکھا اور امتِ مسلمہ کو روحانی اور فکری طور پر رہنمائی فراہم کی۔ آپ کی تعلیمات آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
خاکپائے نقشبند و اولیاء