بیعت اور مرضی کی حقیقت


حق کی راہ پر چلنے والوں کے لیے سب سے مشکل مرحلہ “سب کچھ اللہ اور مرشد کے حوالے کر دینا” ہے۔ زبان سے یہ کہنا تو بڑا آسان اور میٹھا لگتا ہے کہ “میں نے خود کو اپنے مرشد یا اللہ کے حوالے کر دیا”، لیکن اس کیفیت کو سچے دل سے اپنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

مان لینے کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر سے “کیوں، کیسے، کہاں اور لیکن” جیسے سارے سوال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ جب تک آپ کے دل میں شک کی چنگاریاں اٹھ رہی ہیں، تو وہاں سپردگی نہیں ہے، بلکہ وہاں آپ کی چالاک عقل آپ کو بیوقوف بنا رہی ہے۔

سیدھی سی بات ہے: یہ تو سراسر منافقت ہے کہ زبان سے آپ کہیں کہ “مرشد! میرا تن من دھن آپ کا ہے” لیکن جب وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر مشکل راستوں کی طرف نکلیں، تو آپ تڑپ کر پوچھنے لگیں کہ “ہم کہاں جا رہے ہیں؟”۔
اگر رہبر پر یقین کر کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا، تو پھر یہ سوال کیسا؟ کسی پہنچے ہوئے بزرگ کے پاس سر جھکانے سے پہلے جتنا مرضی ہو سکے اپنے اطمینان کے لیے انہیں جانچ لو، پرکھ لو، لیکن جب ایک بار ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر بھی اپنی مصلحتوں کے تحت پوچھ رہے ہو کہ منزل کہاں ہے، تو بھائی! یہ ماننا اور بھروسہ کرنا ہے ہی نہیں۔

عقل اور عشق کا ٹکراؤ
عقل ہمیشہ نفع اور نقصان کا حساب کتاب کرتی ہے، جبکہ عشق اور بھروسہ نفع نقصان سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ جب تک مرید عقل کے ترازو میں اپنے مرشد کے فیصلوں کو تولتا رہے گا، وہ تصوف اور باطن کی دنیا کا الف بے بھی نہیں سیکھ سکتا۔ زبان کا زبانی جمع خرچ باطن کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں رکھتا۔ جو انسان اپنے اندر سے پورا ایماندار اور مخلص نہیں ہے، وہ کبھی سچا مرید نہیں بن سکتا۔ منافق اور چالاباز آدمی کے بس کا یہ سفر ہی نہیں ہے۔

مرشد و مرید کا رشتہ
بے غرضی: عشق کی پہلی شرط، عشق کا سیدھا اور سچا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کی مرضی میں اس طرح کھو جائے کہ اس کے دل میں اپنی کوئی مرضی، کوئی اعتراض یا گلہ پیدا ہی نہ ہو۔ جہاں ذرا سی بھی اپنی خواہش یا مطلب آ جائے، وہاں عشق ختم ہو جاتا ہے۔ عام لوگ اپنی نفسانی خواہشات، لالچ اور مکھن لگانے کو محبت کا نام دے دیتے ہیں۔ کسی کو بہلا پھسلا کر یا اس کی خوشامد کر کے اپنا الو سیدھا کرنا بزنس (تجارت) ہے، محبت نہیں ہے۔

محبت تو وہ مقام ہے جہاں سامنے والے سے کچھ بھی نہیں چاہیے ہوتا، اور جب دل ہر قسم کے مطلب سے پاک ہو جائے تو پھر فائدے اور نقصان کا قصہ ہی ختم۔ عشق میں کمزور یا طاقتور کی کوئی شرط نہیں ہوتی، اس کی واحد شرط “بے غرضی” (بے مطلبی) ہے۔

مطلب سے پاک محبت
سچے عشق کو سمجھنے کے لیے اللہ والے ایک کہانی سناتے ہیں کہ ایک بار ایک بزرگ نے اپنے مریدوں اور چاہنے والوں کے عشق کا امتحان لینے کے لیے ایک رنگ رچایا۔ انہوں نے شدید بیمار ہونے کا ڈرامہ کیا اور کہا کہ میری اس بیماری کا علاج صرف یہ ہے کہ جو کوئی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے، وہ اپنے پیروں کو دھو کر اس کا پانی مجھے پینے کے لیے دے دے، میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔

بڑے بڑے دعوے دار مریدوں اور نمازیوں پرہیزگاروں کے پاس جب یہ بات پہنچی، تو سب نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ “ہمارے پیروں کا دھوون پینے سے شیخ تو ٹھیک ہو جائیں گے لیکن اس گستاخی کے بدلے ہمیں خدا کے ہاں سخت گناہ گار ہونا پڑے گا اور دوزخ کا عذاب بھگتنا پڑے گا”۔

آخر میں جب یہ پیغام ایک تڑپنے والے سچے عاشق تک پہنچا، تو اس نے بنا ایک پل ضائع کیے فوراً اپنے پیر آگے بڑھا دیے۔ لوگوں نے اسے دوزخ کی سزا کا ڈرایا تو اس دیوانے نے تاریخی جواب دیا:

“میرے مرشد کو شفا مل جائے، ان کی خاطر میں ایک بار نہیں بلکہ ہزاروں جنموں تک دوزخ کی آگ میں جلنے کے لیے تیار ہوں”۔

یہ ہے عشق کی اصل کسوٹی، جہاں اپنی نجات کی بھی فکر نہ رہے، بس محبوب کی خوشی سب سے پہلے ہو۔

*مرشد اور طالب کا باطنی کنکشن
روحانی دنیا میں مرشد اور طالب کا رشتہ بہت گہرا ہوتا ہے۔ مرشد وہ ہستی ہے جو اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے دنیا یا دنیا کی کسی چیز کی کوئی لالچ نہیں ہے، وہ دل کا غنی ہو چکا ہے۔ اور طالب (مرید) وہ ہے جو اس “بے طلبی” اور فقیری کے مقام کو پانے کے لیے ابھی سفر کر رہا ہے۔

اگر مرید بغیر کسی اعتراض کے اپنے مرشد کے نقشِ قدم پر چلتا رہے، تو ایک دن وہ بھی اسی باطنی بلندی کو چھو لیتا ہے۔ لیکن اگر اس سفر کے دوران مرید کے دل میں کوئی دنیاوی لالچ، شہرت کی بھوک یا مطلب آ گیا، تو وہ اسی وقت اپنے راستے سے بھٹک جاتا ہے اور اس کا باطن خراب ہو جاتا ہے۔

قدرت کا امتحان
انسان کو یہ وہم نہیں پالنا چاہیے کہ اس کا مرشد یا استاد اس کا امتحان لینے کے لیے کوئی جال بچھاتا ہے۔ اصل میں یہ قدرت (فطرت) ہے جو انسان کا امتحان لیتی ہے۔ زندگی کے تپتے ہوئے چوراہوں پر قدرت انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں نہ اس کا مرشد پاس ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ظاہری مددگار۔ وہاں صرف انسان کی اپنی ذات، اس کا ضمیر اور اس کا ایمان ہوتا ہے۔

اسی لیے زندگی میں ہوش کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے تاکہ جب قدرت کا اصل امتحان آئے تو انسان کو پچھتانا نہ پڑے اور وہ یہ نہ کہے کہ “مجھ سے نادانی میں غلطی ہو گئی”۔

لوگ سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے خانقاہوں اور درباروں میں آتے ہیں لیکن ان کی سوچ دنیا کے گند اور چھوٹے موٹے معاملوں سے باہر نہیں نکل پاتی۔ کوئی کہتا ہے کہ “میرا مال بیمار ہے، میری بھینس بیمار ہے، اسے بیچ دوں یا رکھوں؟”۔ بندے کو اتنی عقل اور شعور ہونا چاہیے کہ وہ کس مقدس جگہ پر کھڑا ہے اور اسے وہاں کیا مانگنا چاہیے۔ لیکن ایک سچا مرشد وہ ہے جو لوگوں کے ایسے فضول سوالوں کو بھی اپنی دانشمندی سے گھما کر اخلاقی اور روحانی بات پر لے آتا ہے تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے۔

شہرت کی اندھی دوڑ
سچائی کا راستہ ملاوٹ سے پاک ہوتا ہے۔ انسان کے لیے مشہور ہونے کی اندھی دوڑ میں پڑ کر اپنے اصولوں کا سودا کر لینا سب سے بڑی ناکامی ہے۔ غلط طریقوں اور جھوٹ کا سہارا لے کر دنیا میں نام کما بھی لیا تو اس کا کیا فائدہ؟

  • نام تو تاریخ میں ایک پاکدامن عورت کا بھی ہوتا ہے اور ایک طوائف کا بھی۔
  • دنیا جتنا نام نیک لوگوں کا لیتی ہے، اتنا ہی نام فرعون اور نمرود کا بھی لیتی ہے۔

لیکن برے لوگوں کا نام سنتے ہی دل میں لعنت اور دوری کا احساس پیدا ہوتا ہے، جبکہ اولیاء اور نیک لوگوں کا نام عقیدت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کا مجمع اکٹھا کرنا کوئی کمال نہیں ہے، کمال یہ ہے کہ تمہاری ذات اور تمہارے عمل سے انسانوں کو کیا باطنی فائدہ پہنچا۔

مرشد کی کڑوی ڈانٹ
جب کوئی مرید مرشد کی سخت گفتگو سن کر کہتا ہے کہ “آج آپ نے ہمیں پہلی بار اتنی سخت ڈانٹ پلائی ہے”، تو اسے سمجھنا چاہیے کہ سچے مرشد کی ڈانٹ برداشت کرنا ہر عیاش اور کمزور انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ مرشد کے الفاظ مکھن ملائی نہیں بلکہ باطن کے گند کو جلانے والی حق کی آگ ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو مرشد کے حق سچ بولنے پر برا لگ جائے، تو وہ زیادہ سے زیادہ کیا کر لے گا؟ صبح اپنا جھولا اٹھائے گا اور خانقاہ چھوڑ کر چلا جائے گا۔

یاد رکھو، کسی کے آنے یا جانے سے، یا کسی کے اچھا یا برا ماننے سے ایک سچے فقیر کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فقیری تو نام ہی بے نیازی (بے پروائی) کا ہے۔ جو انسان پچھلے تیرہ چودہ سال سے دو جوڑے کپڑوں میں جی رہا ہو، ایک کمرے کی چھت کے نیچے راتیں گزارتا ہو اور کسی عیش و آرام کا عادی نہ ہو، اسے کسی کے روٹھنے یا خوش ہونے کی کیا پرواہ؟

مرشد کا کام خوشامد یا چمچہ گیری کرنا نہیں ہے، بلکہ تمہارے اندر چھپی جہالت اور نفسانیت کے اندھیرے کو دور کرنا ہے۔ جب انسان کے دل سے ہر قسم کا دنیاوی لالچ اور مطلب نکل جاتا ہے، تو وہ دنیا کے ہر خوف سے آزاد ہو کر سچی فقیری کے جلال میں جینا سیکھ جاتا ہے۔
۔

خاکپائے نقشبند و اولیاء